حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 20 اگست، قائد اول علامہ سید محمد دہلوی مرحوم کی 55ویں برسی کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا: علامہ سید محمد دہلوی مرحوم برصغیر کی ایک برجستہ علمی شخصیت اور خطیب اعظم تھے، جن کا تعلق ایک معروف علمی گھرانے سے تھا۔ انہوں نے علمی و سماجی شعبوں میں تصنیف و تالیف، تقریر و خطابت کے ذریعے دین و ملت کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے مدرسہ ناظمیہ لکھنؤ جیسی ممتاز علمی درسگاہ سے کسبِ فیض کیا۔
علامہ سید ساجد نقوی نے کہا: وطن عزیز پاکستان کی تشکیل و تعمیر، سلامتی اور دفاع کے لیے عوام نے علماء و اکابرین کی قیادت میں صبر آزما جدوجہد کی اور لازوال قربانیاں پیش کیں۔ اس جدوجہد میں قائد اول علامہ سید محمد دہلوی مرحوم کی کاوشیں اور ان کے مثبت نتائج نمایاں حیثیت کے حامل رہے، یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کی گرانقدر خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔
انہوں نے کہا: دور حاضر میں بھی پاکستان کے عوام مختلف مسائل و مشکلات سے دوچار ہونے کے باوجود ملکی سلامتی اور قومی وحدت کی خاطر صبر و تحمل سے کام لے رہے ہیں، مگر ذمہ داران صورتحال کی سنگینی کا ادراک نہیں کر پا رہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے علامہ سید محمد دہلوی مرحوم کی زندگی اور خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: برصغیر کے خطیب اعظم، بلند پایہ عالم دین اور بے بدل قائد علامہ سید محمد دہلوی مرحوم نے 1964ء میں شیعہ مطالبات کمیٹی اور مجلس علماء جیسے فورمز کے ذریعے پرامن عوامی طرز احتجاج کی داغ بیل ڈالی، اپنے مطالبات کو منطقی انداز میں پیش کیا اور مثبت نتائج حاصل کیے۔
انہوں نے مزید کہا: علامہ سید محمد دہلوی مرحوم نے پیرانہ سالی کے باوجود ملت کی خدمت میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ مشکل دور میں کم وسائل کے باوجود مسلسل اور انتھک محنت کے ذریعے قوم کو شعور اور اتحاد کی نعمت کا احساس دلایا۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا: موجودہ دور میں بھی مسائل و مشکلات کے باوجود ملی حقوق کے تحفظ، اتحاد و وحدت کے فروغ اور مسلکی ہم آہنگی کی ترویج کے لیے ہمہ وقت جدوجہد جاری ہے۔









آپ کا تبصرہ